ہم ذرا دیر سے ناشتہ کرنے کے عادی ہیں نو دس بجے تک ناشتہ کر ہی لیتے ہیں۔ جاگتے ہی ناشتہ بھی نصیب نہیں ہوتا اس فکر میں کہ کہیں کوئی خود کش حملہ تو نہیں ہو گیا اور حملہ آور ہمارے نزدیک تو نہیں پہنچ گئے۔ ہم سے کتنی دور ہیں۔ فاصلے وغیرہ کا اندازہ کرکے ، پورا اطمینان کرکے ہی ہم ناشتہ شروع کرتے ہیں۔ لہذا ناشتہ سے پہلے ٹی وی آن کرتے ہیں کہ کہیں کچھ ہو تو نہیں گیا۔ اور ہمیشہ کچھ ہو ہی گیا ہوتا ہے۔آج بھی کچھ نہیں ، بلکہ بہت کچھ ہو گیا ہوا تھا۔ لاہور میں تین تین مقامات حملے کی زد میں تھے۔ ناشتہ واشتہ سب بھول بھال گیا۔ گھر والوں کے متوجہ کرانے پر ناشتہ کی طرف دھیان کیا۔ چائے تک پہنچتے پہنچتے ایک جگہ (ایف آئی اے) ٹمپل روڈ کی بلڈنگ کو کلئیر قرار دیا جا چکا تھا۔ اتنے میں لائٹ چلے گئی۔ گیارہ بجے روز لائٹ جاتی ہے۔ بارہ بجے تک گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مصروفیت کے ساتھ دھیان اسی طرف لگا ہوا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہو رہا ہو۔ بارہ بجے لائٹ آئی۔ پھر اب بھی خبروں کے چینلز ہی آن ہیں۔یہ سلسلہ اب معلوم نہیں کتنی دیر تک چلتا ر ہے۔ اس حملے کی اطلاعات کئی دنوں سے آ رہی تھیں۔ لیکن ہوا پھر بھی کہ حملہ آور کچھ حد تک کامیاب ہو ہی گئے۔ ایف آئی اے کی بلڈنگ کی ٹوٹی پھوٹی عمارت اور خستہ حال نیچی دیواریں مرمت نہیں کی گئیں۔ ان پر کتنا خرچہ آ جانا تھا۔ بلٹ پروف گاڑیوں سے تو کم ہی آتا۔لیکن شاید عام انسان کی زندگی کی اتنی قمیت خیال ہی نہیں کی جاتی۔
ہماری اکثر صبحیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ اب ہماری کوئی صبح بخیر نہیں ہوتی۔
پاکستان کے مشہور شہر لاہور کے بازار انارکلی میں انور مسعود صاحب نے ایک دفعہ ایک بھینس گزرتی دیکھی۔ اس مشاہدے پر انہوں نے ایک نظم لکھی۔ کہاں انار کلی اور کہاں ایک بھینس (مجھ)۔
äää
توں کیہہ جانے بھولئیے مجھّے نار کلی دیاں شاناں
وَن سوَنّے گاہک نی ایتھے بھَلیو بھَلی دُکاناں
ویکھ نی اڑیے کھّبے پاسے وال کِسے دے کھُلے
راہیاں دے پَٹے کھیہڑے پیندے خوشبوواں دے حُلّے
سَجے پاسے کھُرلی دے وچ بنگالی رس گُلّے
پنج کلیا نے موجاں کر لے لُٹ لے اَڑیے بُلھَے
ویکھ کسے تھاں مونہہ ناں ماریں مُڑ مُڑ پیا سمجھاناں
توں کیہہ جانے بھولئیے مجھّے نار کلی دیاں شاناں
äää
ویکھ نی جیوں جوگئے ایتھے رنگ برنگ پٹولے
سیر کریندے نظریں آون پریاں دے کُجھ ٹولے
چھڈ دے کھانے کھلاں وڑینویں ہُن ناں چبیں چھولے
چھڈ دے پینے گڑے دے شربت، پی ہن کوکے کولے
بوتل دے نال مونہہ ناں لائیں، مونہہ وچ پا لئیں کاناں
توں کیہہ جانے بھولئیے مجھّے نار کلی دیاں شاناں
äää
الھڑ شینہہ مٹیاراں والی چڑھتل کیہڑا جھَلّے
مونڈھے نال پیا مونڈھا کھیندا اے وَجَن پئے دَھر گھَلے
اکھیاں وچ نئیں شرم دا کجلا، مُونہواں تے نئیں پلے
اُچّا اُچّا سارے ویکھن ، کوئی ناں ویکھے تھَلّے
نیوی نظر کیویں کوئی رکھے، اُچیاں ہین دکاناں
توں کیہہ جانے بھولئیے مجھّے نار کلی دیاں شاناں
äää
چار چوفیرے ٹیڈی پھردے، نوی بہار دے کیڑے
چاہڑے ہوے اُچھاڑاں وانگوں، پاٹن ہاکے لِیڑے
وَکھِیّاں اُتّوں کھُل کھُل جاون ٹِچ ٹِچ کردے بِیڑے
جیہڑا ویکھے جیبھ اپنی نوں دنداں ہیٹھ دبیڑے
ڈاہڈیاں تنگ پوشاکاں دے وچ پھاہتیاں ہوئیاں جاناں
توں کیہہ جانے بھولئیے مجھّے نار کلی دیاں شاناں
äää
جیہڑی تھانویں نظریں آون چار مسافر کَٹھّے
اچّن چیتی پَے جاندے نیں پیر ترے کیوں مَٹھّے
ہِل پے ایتھوں بیواقوفے ، لوگ کرن گے ٹھٹھے
ایس دُکانے پان وکیندے ، تُوں سمجھے نیں پَٹھے
ڈِٹھّا ای ایہہ سانوے پَتّر ، سُوہیاں کرن زُباناں
توں کیہہ جانے بھولئیے مجھّے نار کلی دیاں شاناں
äää
آ وڑی ایں ڈنگر مالا توں ، تُوں اج کیہڑے پاسے
پیسے دے نی پُتر سارے ایس گلی دے واسے
مہاتڑ ایتھے خالی آؤندے خالی کھڑدے کاسے
پلّے جے کر پیسے ہوون ، ڈُھل ڈُھل پیندے ہاسے
بُہتیاں مینوں آؤندیاں کوئی نئیں اکِو گل مُکاناں
توں کیہہ جانے بھولئیے مجھّے نار کلی دیاں شاناں
äää
سکول کے زمانے میں جب کلاس میں کسی بچے کو سبق نہ آتا تو اس بچے کو ہر کلاس میں لے جایا جاتا اور اس کلاس کے بچوں سے کہا جاتا کہ شیم شیم بولو۔ اس بچے نے سبق یاد نہیں کیا یا یہ ہوم ورک کرکے نہیں لایا۔ اسی طرح بچے کو پورے سکول کی ہر کلاس کا وزٹ کروا کے شیم شیم سنوایا جاتا۔ سزا یافتہ بچے کی شکل دیکھ کر جب استاد کو اندازہ ہو جاتا کہ سزا کا اثر نظر آ رہا ہے اور بچہ اپنے کئے پر شرمندہ ہے اور خود کو سدھارنے کی کوشش کرے گا تو استاد بچے کی خلاصی کر دیتا۔ لیکن یہ قصہ یہیں پر تمام نہ ہوتا بلکہ کافی دنوں تک سکول اور ہم جماعت اس بچے کو “شیم شیم” کہہ کر چھیڑتے رہتے ۔ بچوں کے علاوہ اگر کسی بڑے کو بھی ٹوکا جائے یا بتایا جائے کہ تم نے غلط کام کیا ہے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو ہی جاتا ہے اور شرمندگی بھی محسوس ہوتی ہے۔
یہ عام انسان یعنی عوام کی ذہنیت ہے۔ خواص میں یہ قدر اور صفت سرے سے پائی ہی نہیں جاتی۔ ان کو ان کی بری حرکت پہ روکا یہ ٹوکا جائے تو وہ بجائے شرمندہ ہونے کے آنکھیں دکھاتے ہیں جس کی سادہ سی مثال ہمارے ملک کے شوگر مل مالکان ہیں۔ خواص کی ایک قسم اور بھی ہے جو اپنے اندھے اور بہرے پن کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ قسم حکمرانوں اور بیورو کریٹس پر مشتمل ہے۔ حکمران طبقہ حکمرانی ملتے ہی دو عارضوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ایک بہرہ پن اور دوسرا اندھا پن۔ ناں انہیں عوام کی بے بسی اور غربت افلاس نظر آتا ہے ناں انہیں عوام کی آٹے اور چینی کے لیے چیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔ بنے بادشاہ پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قیمتیوں کا تعین کرنا یا کنٹرول کرنا میرا کام نہیں ہے۔ اگر آپ حکمران ہو تو پورا ملک آپ کی ذمہ داری نہیں ہے؟ اگر حکمران بن کر بھی آپ کو پتہ نہیں چلا کہ آپ کی کیا ذمہ داری ہے اور آپ کو کیا کرنا ہے تو پھر زیادہ معقول تو یہی لگتا ہے کہ آپ جسیے لوگ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ ایک کلرک کو بھرتی کرنے سے پہلے اس کی کوالی فیکیشن دیکھی جاتی ہے اس کی ٹائپنگ اسپیڈ وغیرہ کا امتحان لیا جاتا ہے لیکن کیسا نظام اور ظلم ہے ہمارے ملک کا کہ ایک “صدر” کی پوسٹ پر آنے والے انسان کی کوالی فیکیشن “رشتہ داری” ہوتی ہے۔ سابقہ تجربہ “بے بی سیٹنگ”۔ موجودہ کارکردگی غیر ملکی غیر ضروری دورے اور ان پر ہونے والا “اربوں روپوں کا خرچہ” اور ملکی خزانے کو بڑا نقصان۔
فوزیہ وہاب نے ارشاد فرمایا ہے کہ “لوگوں کو اب یہ مان لینا چاہیے کہ زرداری صاحب اس ملک کے صدر ہیں اور رہیں گے۔” یہ جملہ مشرف صاحب کی ٹون میں لگ رہا ہے لیکن ان میں اور موجودہ حکمرانوں میں فرق ہی کیا ہے۔ ٹی وی چینلز اور عوام دہائی دے دے کر تھک گئے ہیں کہ زرداری صاحب اپنے غیرملکی دورے کم کردیں اور حکومت اپنے اللے تللے کم کر دے لیکن ناں کبھی حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت آئی کہ یہ خرچہ کیوں کیا گیا ناں ہی زرداری صاحب نے کبھی عوام کو بتانا مناسب سمجھا کہ فلاں دورے پر میں اس مقصد لے لیے گیا تھا اور یہ خرچ ہوا اور یہ میں فائدہ لے کر آیا ہوں۔ (فائدے سے آپ صدر صاحب کا ذاتی فائدہ یا ملکی فائدہ دونوں مراد لے سکتے ہیں)۔ ہر بار ناکام آ جاتے ہیں کہیں سے امداد نہیں ملتی لیکن پھر بھی کبھی شرمندگی محسوس نہں کی۔ بلکہ ایک جگہ سے ناکام ہو کر وہیں سے دوسرے ملک چلے جاتے ہیں کہ ان کے پاس اپنی ناکامیوں کا حساب کرنے کا وقت ہی نہیں ہے ناں پرواہ۔ اور شرمندہ کیسے ہوا جاتا ہے یہ تو ان کو معلوم ہی نہیں ہے ۔ اپنے سابقہ دور میں بھی کرپشن کے ریکارڈ بنا کر گئے تھے اور موجودہ دور میں بھی اپنا ہی ریکارڈ توڑنے کی کوشش میں ہیں ۔ اب تو عوام کو خود ہی کہنا پڑنے گا “شیم شیم” ۔ شاید شرم آ ہی جائے۔
کل ٹی وی میں خبر دیکھی کہ آٹا خریدنے کی لائن میں لگے لوگوں پر پولیس کے اہلکاروں نے لاٹھی چارج کر دیا۔ یہ لوگ تو پہلے ہی سے مرے ہوئے ہیں ان کو کیا مارنا ، غربت، افلاس، بے روز گاری، وسائل کی عدم فراہمی ، مہنگائی نے کمر پہلے ہی توڑ رکھی ہے ۔ باقی رہی سہی ہڈیاں یہ پولیس کے اہلکار توڑنے آ گئے۔
جب سے رمضان شریف شروع ہوا ہے اور حکومت نے سستے آٹے کا اعلان کیا ہے روزانہ ٹی وی پر سستا آٹا خریدنے کے لئے ہوئے دھوپ میں کھڑے لوگوں کی قطاریں حکومت کے سستے آٹے کی فراہمی کے دعووں کا مذاق اڑاتی نظر آ رہی ہیں۔ حکومت کو توفیق نہیں کہ اعداد و شمار اکٹھے کرے کہ کون لوگ مستحق ہیں اور کون نہیں اور مستحق لوگوں تک سستا آٹا پہنچا بھی ہے کہ نہیں ۔ سستے آٹے کی غریب اور مستحق تک فراہمی نہ ہوئی تو پھر کیا فائدہ اس مہم کو شروع کرنے کا ، بند کرو یہ ڈھکوسلہ۔ اگر غریب کو فائدہ پہنچانا ہے تو کوئی سسٹم کوئی طریقہ بنائیں جس سے غریب کو عزت کے ساتھ اس کا حق مل سکے۔ یہ پندرہ منٹ ، آدھ گھنٹہ کے لئے اناج سے بھرے ہوئے ٹرکوں کا نظارہ کرا کے پھر اسے واپس لے جانا اور ڈھکوسلہ نہیں ہے تو کیا ہے کہ جب کوئی ضعیف ، کوئی خاتون اس تک پہنچ ہی نہ سکے۔کیا یہ سارا ڈرامہ عوام کی بے بسی کا تماشہ دیکھنے اور دوسروں کو دکھانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ضرور یہ مناظر دیکھ کر ہمارے حکمرانوں کو بہت تسکین ملتی ہے ۔ اس بات کا اندازہ تو روز قطاروں میں کھڑی عوام کی سستی اجناس کے لئے بڑھتی خواری دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔
جناح پور کا نقشہ ایم کیو ایم کے دفتر سے برآمد ہونا ایک جنرل کے کہنے پر ایک سازش قرار پایا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے بانی اور لیڈر الطاف حسین کی جذبات انگیز تقریر سننے کو ملی۔ اس سے پہلے بھی ہم الطاف حسین اور رحمان ملک کی مشترکہ تقریر سن چکے ہیں۔ اس میں بھی جذباتیت تھی لیکن اتنی نہ تھی بس الطاف حسین دوران تقریر رحمان ملک کا اس طرح ہاتھ دبا رہے تھے جیسے دونوں کا نو بیاہتا جوڑا ہو یا پھر لڑکا اور لڑکی پہلی بار ڈیٹ پر آئے ہوں۔ہم بات کر رہے تھے الطاف حسین کی حالیہ تقرر کی جو انہوں نے ایک دو روز پہلے ہی کی ہے۔ اس میں الطاف اپنا رومال نکال نکال کر اور ا سے منہ پر ڈال ڈال کر خوب روئے۔ رومال شاید ایک ہی تھا اس سے آنکھیں صاف کرتے رہے اور اسی سے ناک (اتنی غربت اب ان سے کوئی نہ پوچھے کہ آپ کی فنڈگ کون کرتا ہے۔ اور پیسہ کہاں سے آتا ہے وغیرہ وغیرہ ) ۔ اس تقریر کو سن کر ہمیں اور کسی اور بات کا تو اعتبار نہ آیا ہو لیکن ایک بات کا اعتبار ضرور ہو گیا کہ یہ بندہ کبھی بھوکا مرنے والوں میں سے نہیں ہے۔ یہ اگر لیڈر نہ بھی ہوتا تو بہت بڑا ایکٹر ہوتا اور کئی ایوارڈ جیت چکا ہوتا اور انڈیا تو ضرور جاتا اور کیا پتہ وہاں ہی سکونت اختیار کر لیتا اور رجنی کانت کو ٹف ٹائم دے رہا ہوتا۔ فرض کریں اگر ایکٹر نہ بن پاتا تو میتوں پر بین ڈالنے کا کام تو اتنی خوبی سے کر سکتا ہے کہ اتنے اچھے بین میں نے کبھی کسی مرد کے نہیں سنے ناں حقیقی زندگی میں اور نہ ٹی وی ، فلم میں ۔مردوں کے بین ہیں بھی نایاب ۔ کیونکہ مرد کم ہی روتے ہیں اور وہ بھی ایسے پھوٹ پھوٹ کر۔ یہ تو الطاف حسین کا انمول ٹیلنٹ ہے۔ اسے ان کو ضائع نہیں کر نا چاہیے۔ اور جلد سے جلد سائڈ بزنس کے طور پر بین ڈالنے کا کام تو ضرور شروع کر دینا چاہیے۔ یو۔کے جیسے ملک میں بیٹھے ہیں اور وہاں پر تو ان کی ڈیمانڈ اور بھی زیادہ ہو گی ۔ میرے خیال میں تو اس فن کو روشناس کرانے کا سہرا بھی الطاف حسین کے سر جائے گا۔ انہیں چاہیے کہ جلدی کر لیں کوئی اور ان کی تقریر سن کر آئیڈیا نہ چرا لے۔
پاکستانی عوام ایک بار پھر رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ ایک امتحان سے بھی گزر رہے ہیں اور وہ امتحان ہے مہنگائی کا۔ حکومت وقت نے پاکستانیوں کی اتنی تذلیل کی ہے جتنی اس سے پہلے کی حکومتیں بھی نہ کر سکیں تھیں۔ لوگ چینی اور آٹا لینے کے لئے لائنوں میں ایسے لگے ہوتے ہیں جیسے کہ مفت بٹ رہا ہے۔ حالانکہ ایسا ہے نہیں ۔ عوام کو تھوڑا سا ریلیف بھی بہت احسان جتا جتا کر دیا جا رہا ہے اور یہ ریلیف بھی ہر کسی کو میسر نہیں ہے ۔ موجودہ دور حکومت میں مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ روٹی ، کپڑا ، مکان دینے کی دعوے دار حکومت نے عوام کو دانے دانے کا محتاج کر دیا ہے۔
حسب حال کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیے۔
اب میں راشن کی دکانوں پہ نظر آتا ہوں
اپنے کھیتوں سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوں
کتنی مہنگائی کے بازار سے کچھ لاتا ہوں
اپنے بچوں میں اُسے بانٹ کر شرماتا ہوں
اپنی نیندوں کا لہو پونچھنے کی کوشش میں
جاگتے جاگتے تھک جاتا ہوں، سو جاتا ہوں
کوئی چادر سمجھ کے نہ کھینچ لے پھر سے خلیل
میں کفن اوڑھ کے فٹ پاتھ پہ سو جاتا ہوں
ماہ صیام برکتوں اور عبادتوں کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے نیکیاں کمانے میں کوئی پیچھے رہنا نہیں چاہتا۔ اس لئے روزے بھی رکھے جاتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھی جاتی ہیں۔ مسجدوں میں رمضان شریف کے مہینے میں جتنا ہجوم ہوتا ہے اتنا عام دنوں میں نہیں ہوتا۔ خلق خدا اپنے رب کی رحمتیں سمیٹنے میں لگی ہوتی ہے اور بڑھ چڑھ کر خیراتیں ، زکواتیں دی جاتی ہیں ، افطاریاں کرائی جاتی ہیں ، روزے رکھوائے جاتے ہیں۔ کیوں ناں کریں اس ماہ میں ہر نیک کام کا صلہ سات سے ستر گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ خدا نے خود کہا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ خدا پر یقین رکھنے والے لوگ عبادتیں کرتے ، نمازیں پڑھتے رہتے ہیں اور اس دوران ہمارے معاشرے، ملک کا ایک اور طبقہ جسے ہم منافع خور اور ذخیرہ اندوز جیسے پیارے ناموں سے پکارتے ہیں۔ وہ بھی اپنی نوعیت کی سرگرمیوں میں مشغول رہتا ہے۔ اصل میں وہ تو رمضان کی آمد سے ایک دو ماہ پہلے ہی سے تیاری شروع کر دیتاہے۔ رمضان کی آمد کی جتنی خوشی اس طبقے کو ہوتی ہے اس کا اندازہ عام بندہ کیسے لگا سکتا ہے۔ عام انسان تو عبادت کرنے ، روزے رکھنے اور دوسرے نیکی کے کاموں کی کھوج میں رہتا ہے اور یہ طبقہ ملاوٹ کرنے ، ذخیرہ اندوزی کرنے اور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف۔ مسلمان آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور عمل کرکے اس کا اجر حاصل کرنے کا انتظار نہیں کرتا کیونکہ اس کو یقین ہے کہ تمام اجر تو اس دنیا میں ملنا ممکن نہیں ہے ۔ آخرت میں جو تمام کاموں کی اخیر ہو گی اور جب سب کا رزلٹ سنایا جائے گا تب یہ عمل کام آئیں گے۔ لیکن منافع خور اور ذخیرہ اندوز ایسا نہیں سوچتا۔ ٹھیک ہے رمضان میں کئے گئے ہر نیکی کے عمل کا اجر سات سے ستر گنا ملے گا اور وہ بھی قیامت کے روز تو اس میں اتنا انتظار کرنے کی کیا ضرورت ہے اور وہ بھی قیامت تک کا انتظار۔ تھوڑی سی محنت کرکے اس دنیا میں بھی ایک گنا کو سات سے ستر گنا تک کر سکتے ہیں ۔ ضرورت ہے ذخیرہ اندوزی کی ۔ جو چیزیں لوگوں نے رمضان کے دوران زیادہ استعمال کرنی ہیں ان کو پہلے اپنے گوداموں میں روک کے چھپا کر رکھو ، ان کا مصنوعی بحران پیدا کرو اور پھر جب قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں تو پھر ان کو اپنی من چاہی قیمت پر فروخت کرو ، کتنا آسان ہے۔ رہ گئی بات حکومت کی تو حکومت کی معاونت ناں ہو تو یہ کام کیسے ہو سکتا ہے ۔ ان میں سے بھی کچھ کو اپنے ساتھ ملا لو۔ پہلے وہ اعلان کریں کہ ہم اس سال یہ جنس امپورٹ نہیں کریں گے ۔ ساری عوام اطیمنان سے بیٹھ جائے ، جب سب مطمئن ہو جائیں تو ٹھیک وقت آنے پر ( اور وہ وقت رمضان شریف سے پہلے کے علاوہ کوئی ہو نہیں سکتا) ۔ چیزوں کا مصنوعی بحران پیدا کردو ۔ کہو کہ فلاں جنس کی قلت ہو گئی ہے۔ چھاپے وغیرہ پڑیں تو شور مچا دوکہ ہمارے مزدور پکڑے گئے ہیں ، غریب بندے پر ظلم ہو رہا ہے (ہمیں ہی کرنے دیں ناں غریب بندے پر ظلم ، حکومت کیوں اس میں ساجھے دار بنتی ہے۔ اس کو ظلم کرنے کے کئی اور موقعے مل سکتے ہیں)۔ عوام شور مچائے تو حکومت دکھاوے کے لئے مذاکرات بھی کرے گی وہاں پر بھی ذخیرہ اندوزوں کا نمائندہ (وفاقی وزیر) پہنچ کر ذخیرہ اندوزوں کے حق میں فیصلہ کروا دے گا اور اس طرح بڑھی ہوئی قیمتوں کو حکومت کا تحفظ بھی حاصل ہو جائے گا اور حق میں فیصلہ ہو گا ذخیرہ اندوزوں کے۔ یہ ہے دنیا میں ہی ایک گنا کا سات سے ستر گنا کرنےکا فارمولہ۔ ایسے ہی لوگ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کرو ، زیادہ منافع سمیٹو اسی منافع سے اور ملیں خریدوں اور اگلے سال اور زیادہ منافع کماو اور دنیا میں ہی جنت کے مزے لوٹو۔
ایک احتیاط ضروری ہے کہ باہر کے ملک میں اکاونٹ اور گھر ہونا ضروری ہے۔ کیا پتہ کب بھاگنا پڑ جائے۔
یوم باورچی خانہ پر سب نے خیالی پلاو ہی پکائےہیں میں چونکہ حقیقت پسند واقع ہوئی ہوں اس لئے اپنے ساتھ گزرا واقع بتا رہی ہوں جو کہ بالکل سچا ہے ۔ نام اور جگہ بھی تبدیل نہیں کی کہ کچھ صیغہ راز میں رہ ہی جائے ۔
یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب میں نویں جماعت میں تھی۔ تھوڑا بہت کھانا پکانا آتا تھا۔ لیکن باقاعدہ طور پر گھر میں کبھی نہ پکایا تھا۔ پھر بھی امی کے پاس بیٹھ بیٹھ کر کچھ نہ کچھ کھانا پکانا سیکھ ہی لیا تھا۔ ایک دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں پھپھو کے یہاں چنیوٹ گئی ہوئی تھی۔ پھوپھا کو دوسروں کے ہاتھ اور دوسروں کے گھروں کا مختلف ہاتھوں کا کھانا کھانے کا بہت شوق ہے۔ پھپھو نے کہا کہ فائزہ تمہیں چاول پکانے آتے ہیں ہم نے جھٹ پانچ کلو کا سر ہلا دیا۔ہم کم گو جو واقع ہوئے تھے اور جھوٹ بولنے کی عادت بھی نہ تھی۔
“تمہارے انکل کہہ رہے ہیں کہ آج فائزہ مزیدار سے چاول پکا کر کھلائے۔ چنوں کی دال والے چاول۔ تمہاری کزن تمہاری مدد کر دے گی ” ۔ کزن ہم سے بھی کچھ ماہ چھوٹی تھی۔ اس نے کیا مدد کرنی تھی۔
ہم نے پھر پانچ کلو کا سر ہلا دیا۔ ویسے بھی ہمیں بڑوں کے سامنے بولنے کی عادت نہیں ہے۔
خیر چاول پکانے کی تیاری پکڑی۔ چاول چن کر دھو کر برتن وغیرہ رکھ کر بیٹھ گئے اور تڑکا لگا لیا۔ مسالہ بھون کر مرچیں ڈالنےکی باری آئی تو ہم سوچ میں پڑ گئے فائدہ تو کوئی نہ تھا لیکن پھر بھی ہم نے سوچا سوچنے میں کیا حرج ہے۔ کبھی اپنی صوابدید پر چاول پکائے ہوں تو کچھ یاد آئے ناں نمک ، مرچ کا حساب۔ صرف پانی کا حساب مجھے ٹھیک ٹھیک پتہ تھا۔ مرچوں میں ذرا غلطی محسوس ہو رہی تھی۔ پھپھو سے پوچھنے گئے تو کہنے لگیں اپنی مرضی سے ڈال دو۔ بڑی گھنی تھیں چاہتی تھیں کہ ان کے علاوہ کسی کے کھانے کی تعریف نہ ہو۔ ہم نے بھی تعریف تو وصول کرنی تھی اتنی محنت کاہے کو کر رہے تھے۔ خیر چاول پکانے لگے۔ مرچیں بھی ڈال دیں۔
پکا کر بڑی شان سے کمرے میں لے کر گئے۔ سب کھا کھا کر ہمارا منہ دیکھنے لگے۔ پھپھو کہنے لگیں ۔ ” فائزہ ! چاول بڑے چٹ پٹے پکائے ہیں۔” ہم خوش ہو گئے تعریف جو ہوئی تھی۔ ہمارا چہرہ تو تعریف سن کر لال ہو گیا تھا۔ لیکن باقی جو بھی چاول کھاتا جاتا تھا۔ اس کا منہ بھی لال ہوتا جاتا تھا۔ ہماری عادت ہے ہم کھانا پکاتے چکھتے نہیں اس کی خوشبو سے ہی دل بھر جاتا (خود کو ایکسپرٹ جو سمجھتے تھے)۔
پھپھو نے ساتھ والے ہمسائیوں کے گھر بھی ایک پلیٹ بھیج دی۔ وہاں سے جو رسپانس آیا وہ خاصا گرم جوش تھا۔ ربیعہ ہماری ہی عمر کی تھی۔دوڑی دوڑی آئی (ہاتھ میں چاولوں کی پلیٹ بھی تھی ) اور آ کر پوچھنے لگی آنٹی یہ آپ نے چاول پکائے ہیں۔
” کیوں اچھے نہیں پکے؟ آنٹی نے شرارت سے دریافت کیا “ؕ
میں بڑے آرام سے سونے کی تیاری کر رہی تھی کہ یہ چاول آن پہنچے ایک ہی نوالہ کھا کر میری آنکھیں فل کھل گئیں اور ساری میری نیند اڑ گئی۔ ہم خوش ہو گئے کہ چلو امتحانوں کے دنوں میں تیاری کے لئے ایسے ہی چاول پکا کر رکھ لیا کریں گے جب نیند آنے لگے ایک نوالہ پھانک لیا۔
” خرابی کیا ہے آخر چاولوں میں “۔ پھپھو پوری بات جاننا چاہ رہی تھیں ۔ اور تعریف آیا ہی چاہتی ہے ہم نے دل میں سوچا اور سر جھکا کر بیٹھ گئے جیسے اپنی تعریف سن کر ہم شرمانے کو تیار بیٹھے ہوں۔
” اتنی مرچیں ، کیا مرچوں کا ڈبہ گر گیا تھا۔ دیگچی میں؟ ربیعہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی اورہم پر بجلی گر گئی۔
” نہیں اتنے تو “بمباسٹک” چاول پکائے ہیں ہماری فائزہ نے پہلی مرتبہ۔ اور تم ایسیے کہہ رہی ہو۔ ” پھپھو نے مذاق اڑایا۔
اب ہم نے بھی چاول چکھ لینا مناسب سمجھا۔ واقع مرچوں کی تو بہار ہی آئی ہوئی تھی۔ ہم نے پھر بھی اپنی خودی کو بلند کرتے ہوئے (جو تقریباً مسمار ہونے کے قریب تھی) کہا اتنی زیادہ مرچیں بھی نہیں ہیں۔ بس تھوڑی سی ۔ ۔ ۔ ۔ زیادہ ہو گئی ہیں۔ ہمیں اعتراف کرنا ہی پڑا۔ ہمارے پاس بیٹھی ہوئی کزن جو بڑے انہماک سے چاولوں پر نظریں جما کر بیٹھی تھی ( شاید چاولوں سے مرچیں علیحدہ کرنے کی ترکیب سوچ رہی تھی) نے فوراً اپنی پلیٹ ہماری طرف بڑھائی ۔
” لو پھر یہ بھی تم ہی کھا لو۔ میرا شاید منہ زخمی ہے ۔ اسی لئے مرچیں لگ رہی ہیں۔”
اس کے بعد ہر کوئی ہمارے سامنے پلیٹ رکھ کر کوئی بہانہ ٹانک کر چلا گیا۔ ہم نے پٹخ کر پلیٹ رکھی ۔ اب غلطی ہو گئی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اتنا شرمندہ کیا جائے۔ اگر دل رکھنے کو ایک آدھ پلیٹ کھا لیتے سب کے سب تو کیا جاتا ان سب کا؟ شرمو شرمی ہم نے آدھی پلیٹ ختم کر ہی دی تھی لیکن سب چلے گئے تو ہم نے بھی پلیٹ پٹخی پانی پیا اور صبر کرکے بیٹھ رہے ۔ بھوک جو لگی ہوئی تھی اور اب کھانا شام کو ہی نصیب ہوتا۔ اپنا گھر نہ تھا اور مہمان تو ہوتا ہی بےزبان ہے۔
ہر کوئی اپنا بچپن یاد کر رہا ہے۔ میں نے نہیں کیا تو آپ لوگ یہ نہ سمجھئیے گا کہ میں کبھی چھوٹی تھی ہی نہیں (ویسے میرے ارد گرد کے لوگوں نے مجھے کافی دیر ایسے ہی بڑے دیکھا ہے )۔ اب اس کا کچھ اور مطلب لینے کی بھی ضرورت نہیں۔ میرا بچپن جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے بھول پن میں ہی گزرا ہے۔ راستہ کبھی یاد نہیں رہتا تھا اپنے گھر تک کا بھی۔ ہمیشہ گم ہی رہتی تھی، مطلب راستہ بھول جاتی تھی۔ سب سے بڑی ہوں اور میرے ساتھ کوئی کھیلنے والا بھی نہ تھا اس لئے دوسرے بچوں کے پیچھے چلتی چلتی دوسرے تیسرے محلے پہنچ جاتی تھی۔ گم ہونے میں مشہور ہو چکی تھی اسی لئے کوئی جان پہچان کا دیکھ لیتا تو اٹھا کر گھر چھوڑ جاتا۔ یہ کیفیت کوئی چار ، پانچ سال کی عمر تک رہی۔ پھر ہم نے دوسری قسم کی بھولی حرکتیں کرنا شروع کر دیں۔ گھر سے خرچنے کے لئے پیسے ملتے تھے تو جیسے مٹھی میں دبا کر امی پکڑاتیں تھیں ویسے ہی بند مٹھی لے کر گھر واپس آ جاتی۔ خرچ نہ کرتی۔ گھر والے ہنستے تھے کہ ان پیسوں کو خرچنے کے لئے دیا تھا واپس لانے کے لئے نہیں۔ گھر سے واپس امی لے کر آتیں تھیں اور وہی سکول چھوڑنے بھی جاتیں تھیں۔ گرمیوں کے دنوں میں راستے میں برف والے کی دکان پڑتی تھی۔ مجھے روک کر ٹھنڈا پانی پلاتا اور تھوڑی برف دے دیتا کہ گھر میں جا کر پانی ٹھنڈا کرکے پی لینا۔ یعنی مفت میں۔ ان دنوں ہمارے گھر فریج نہ تھا۔ پڑھنے میں شروع میں تیز تھی رٹے لگانے میں اول ۔ ایک لفظ بھی ادھر کا ادھر نہ ہوتا تھا۔ چھٹی جماعت تک سکول میں فرسٹ آتی رہی۔ ساتویں میں سیکنڈ آئی اس کے بعد پڑھائی میں ویسا دل نہ لگا اور نارمل سے نمبر لے کر ہی پاس ہوتی رہی ۔
ایک دفعہ نزلے کی وجہ سے میرا ناک بند تھا۔ ان دنوں ان ہیلر نہیں ہوا کرتے تھے۔ کزن نے مشورہ دیا کہ تم جا کر مرچیں سونگھو۔ ان دنوں میں سات یا آٹھ سال کی ہونگی۔ میں نے زیادہ سوچنا مناسب نہ سمجھا اور جا کر مرچوں کا ڈبہ کھولا اور خوب لمبا سانس لے کر مرچیں سونگھیں ۔ ناک بچ گئی مرچیں سیدھی آنکھوں میں چلے گئیں۔ فوراً جا کر منہ اور آنکھیں دھوئیں۔ کزن نے سنا تو بہت ہنسی اور کہا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا۔ ہم کہہ بھی نہ سکے کہ کسی کی جان گئی اور آپ کی ادا ٹھہری کیونکہ ان دنوں ہمیں پتہ نہیں تھا کہ شاعری کس بلا کا نام ہے۔ واقعات تو اور بھی ہیں بھولے بھالے سے آپ کو سن کر افسوس ہی ہو گا کہ اتنا بھی کوئی بے وقوف نہ ہو۔ اس لئے رہنے ہی دیتی ہوں۔ لائٹ کا بھی پتہ نہیں۔ کب بے وفائی کر جائے۔
انور مسعود کا پنجابی کلام حاضر خدمت ہے ۔ کافی مشہور ہے اور یقیناً آپ نے سنا بھی ہو گا ۔ پڑھ بھی لیں۔
***اج کیہہ پکائیے ***
چوہدری:
اج کیہہ پکائیے ، دس تیرا کیہہ خیال اے
رحما:
میں کیہہ دساں، میری کیہہ مجال اے
چوہدری:
رحمیا چل اج فیر چسکے ای لا لئیے
لبھ جان چنگیاں تے بھنڈیاں پکا لئیے
رحما:
واہ واہ تسی بجھیاں نیں دلاں دیاں چوریاں
میرا وی اے دل سی پکائیے اج توریاں
لونواں والی بھنڈی ہووے، پوٹا پوٹا لمی ہووے
ہری تے کچور ہووے ، سوہنی ہووے ، کُولی ہووے
وچ ہون بکرے دی پُٹھ دیاں بوٹیاں
نال ہون چھنڈیاں تندوری دیاں روٹیاں
مکھنے دا پیڑا ہووے، لسی دا پیالہ ہووے
بھنڈیاں دے نخرے ، تے گرم مسالہ ہووے
بھنڈیاں بنانا وی تے کوئی کوئی جاندا اے
رنھناں پکانا وی تے کوئی کوئی جاندا اے
اُٹھاں فیر چوہدری جی، پھڑاں میں تیاریاں
بھنڈیاں بناواں اج رج کے کراریاں
چوہدری:
رحمیا ہزار ہون مزیدار بھنڈیاں
ہوندیاں نیں کجھ ذرا لیس دار بھنڈیاں
رحما:
دفع کرو چوہدری جی، سبزیاں دی تھوڑ اے
سانوں ایہہ لسوڑیاں پکان دی کیہہ لوڑ اے
بندہ کاہنوں بھنڈیاں دی لیس دی ہواڑ لے
ایہدے نالوں پورا جئی سریش بھانوے چاڑ لے
چوہدری :
فیر کیہہ خیال اے تیرا جھڑی ناں منا لئیے
جے توں آکھیں رحمیا کریلے ناں پکا لئیے
رحما:
ریس اے کوئی چوہدری جی آپ دے خیال دی
جمی اے کوئی سبزی کریلیاں دے نال دی
ڈھڈ وچ انج جویں لوہ لگ پئی اے
تُساں گل کیتی اے تے رال وگ پئی اے
سچ پچھو چوہدری جی ایہو میری راء اے
مینوں وی چروکنا کریلیاں دا چاء اے
چوہدری جی ہووے جے کریلا چنگا پلیا
وچ ہووے قیمہ ، اتے دھاگا ہووے ولیا
گنڈھیاں ، ٹماٹراں دے نال ہووے تُنیا
فیر ہووے گھر دے گھیو وچ بھُنیا
فیر کوئی چوہدری جی اوس دا سواد اے
پَر وی پکایا سی ، تُساں نوں وی یاد اے
چوہدری:
ہور بِیبا مینوں ہر گل بھاوندی اے
رحمیا کریلیاں وچ کوڑ ذرا ہوندی اے
رحما:
دفع کرو زہر تے چریتا مینوں لگدا اے
نِم تے دھریک دا بھرا مینوں لگدا اے
پلے پلے دنداں تھلے جیبھ پئی سُکدی
کھا مر لئیے تے تریہہ نئیں مکدی
تُمے دیاں گولیاں ، کریلیاں توں پِھکیاں
اینہاں نالوں چاڑھ لو، کونین دیاں ٹِکیاں
چوہدری:
رحمیا فیر انج کر تُو ای کوئی راء دے
پُچھیں تے بتاءواں دا وی اپنا سواد اے
رحما:
رب تہادا بھلا کرے کڈی سوہنی گل اے
ایہو جیہے ذائقے والا ہور کیہڑا پھل اے
کالے کالے لشکدے تے گول مول چاہڑ لو
چوہدری جی لون تے وتاوں چول چاہڑ لو
چوہدری:
رحمیا پکان نوں تے جی بڑا کردا اے
بھٹھیاں دی گرمی توں دل ذرا ڈردا اے
رحما:
سچ اے جی چوہدری جی ڈھڈ کاہنوں بالنا
کھان والی چیز اے کوئی وینگناں دا سالنا
بھٹھیاں دے ڈک وچ سٹنے ضرور نیں
کاہنوں پے بھنجائیے، ساڈے ڈھڈ کوئی تندور نیں
دفع کرو بھٹھیاں نوں ، پٹھے کاہنوں چاڑھیے
حبشیاں نوں چوہدری جی گھر کاہنوں واڑئیے
کالیاں دے نال کاہنوں مارئیے اڈاریاں
ساڈیاں تے ہین امریکہ نال یاریاں !
چوہدری:
ودھ ودھ بولنا ایں ایویں بڑبولیا !
سبزیاں توں جا تُوں سیاستاں نوں پھولیا
دوجے دی وی سن کجھ دوجے نوں وی کہن دے
حکومتاں دی گل توں حکومتاں تے رہن دے
چنگا فیر بُجھ بھلا میرا کیہہ خیال اے
رحما:
بجھ لئی اے جی چوہدری جی چھولیاں دی دال اے
(انور مسعود)